كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے

وحدثني ابو الطاهر احمد بن عمرو بن سرح ، اخبرنا عبد الله بن وهب ، اخبرني معاوية بن صالح ، عن عبد الرحمن بن جبير ، عن ابيه ، عن عوف بن مالك ، قال: " قتل رجل من حمير رجلا من العدو، فاراد سلبه، فمنعه خالد بن الوليد وكان واليا عليهم، فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، عوف بن مالك فاخبره، فقال لخالد: ما منعك ان تعطيه سلبه؟، قال: استكثرته يا رسول الله، قال: ادفعه إليه، فمر خالد، بعوف فجر بردائه، ثم قال: هل انجزت لك ما ذكرت لك من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟، فسمعه رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستغضب، فقال: لا تعطه يا خالد لا تعطه يا خالد، هل انتم تاركون لي امرائي؟ إنما مثلكم ومثلهم كمثل رجل استرعي إبلا او غنما، فرعاها ثم تحين سقيها فاوردها حوضا، فشرعت فيه، فشربت صفوه وتركت كدره فصفوه لكم وكدره عليهم "،

‏‏‏‏ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حمیر (ایک قبیلہ ہے) کے ایک شخص نے دشمنوں میں سے ایک شخص کو مارا اور اس کا سامان لینا چاہا لیکن خالد بن ولید نے (جو سردار تھے لشکر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) نہ دیا اور وہ حاکم تھے، تو عوف بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حال بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم نے اس کو سامان کیوں نہ دیا؟ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ سامان بہت تھا یا رسول اللہ! (تو میں نے وہ سب دینا مناسب نہ جانا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دے دے اس کو۔ پھر سیدنا خالد، عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے سے نکلے اور ان کی چادر کھینچی اور کہا جو میں نے بیان کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی ہوا نا (یعنی خالد رضی اللہ عنہ کو شرمندہ کیا کہ آخر تم کو سامان دینا پڑا) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوئے اور فرمایا: اے خالد مت دے اس کو، اے خالد! مت دے اس کو۔ کیا تم چھوڑنے والے ہو میرے سرداروں کو تمہاری ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے اونٹ یا بکریاں چرانے کو لیں پھر چرایا ان کو اور ان کی پیاس کا وقت دیکھ کر حوض پر لایا، انہوں نے پینا شروع کیا پھر صاف صاف پی گئیں اور تلچھٹ چھوڑ دیا تو صاف (یعنی اچھی باتیں) تو تمہارے لیے ہیں اور بری باتیں سرداروں پر ہیں (یعنی بدنامی اور مؤاخذہ ان سے ہو)۔

صحيح مسلم # 4570
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp