كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے

حدثنا يحيي بن يحيي التميمي ، اخبرنا يوسف بن الماجشون ، عن صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف ، عن ابيه ، عن عبد الرحمن بن عوف ، انه قال: " بينا انا واقف في الصف يوم بدر نظرت عن يميني وشمالي، فإذا انا بين غلامين من الانصار حديثة اسنانهما تمنيت لو كنت بين اضلع منهما، فغمزني احدهما، فقال: يا عم هل تعرف ابا جهل، قال: قلت: نعم، وما حاجتك إليه يا ابن اخي؟، قال: اخبرت انه يسب رسول الله صلى الله عليه وسلم، والذي نفسي بيده لئن رايته لا يفارق سوادي سواده حتى يموت الاعجل منا، قال: فتعجبت لذلك، فغمزني الآخر، فقال: مثلها قال: فلم انشب ان نظرت إلى ابي جهل يزول في الناس، فقلت: الا تريان هذا صاحبكما الذي تسالان عنه؟، قال: فابتدراه فضرباه بسيفيهما حتى قتلاه، ثم انصرفا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبراه، فقال: ايكما قتله، فقال كل واحد منهما: انا قتلت، فقال: هل مسحتما سيفيكما؟، قالا: لا، فنظر في السيفين، فقال: كلاكما قتله "، وقضى بسلبه لمعاذ بن عمرو بن الجموح، والرجلان معاذ بن عمرو بن الجموح، ومعاذ بن عفراء.

‏‏‏‏ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں بدر کی لڑائی میں صف میں کھڑا ہوا تھا میں نے اپنی داہنی اور بائیں طرف دیکھا تو دو انصار کے لڑکے نظر آئے نوجوان اور کم عمر۔ میں نے آرزو کی کاش! میں ان سے زور آور شخص کے پاس ہوتا (یعنی آزو بازو اچھے قوی لوگ ہوتے تو زیادہ اطمینان ہوتا) اتنے میں ان میں سے ایک نے مجھے دبایا اور کہا: اے چچا! تم ابوجہل کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں اور تیرا کیا مطلب ہے ابوجہل سے اے بیٹے میرے بھائی کے، اس نے کہا: میں نے سنا ہے کہ ابوجہل رسول اللہ کو برا بھلا کہتا ہے۔ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر میں ابوجہل کو پاؤں تو اس سے جدا نہ ہوں جب تک ایک نہ مر لے جس کی موت پہلے نہ آئی ہو۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ کو تعجب ہوا اس کے ایسا کہنے سے (کہ بچہ ہو کر ابوجہل ایسے قوی ہیکل کے مارنے کا ارادہ رکھتا ہے) پھر دوسرے نے مجھ کو دبایا اور ایسا ہی کہا تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ میں نے ابوجہل کو دیکھا وہ پھر رہا ہے لوگوں میں۔ میں نے ان دونوں لڑکوں سے کہا: یہی وہ جس شخص ہے جس کو تم پوچھتے تھے۔ یہ سنتے ہی وہ دونوں دوڑے اور تلواروں سے اسے مارا یہاں تک کہ مار ڈالا، پھر دونوں لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور یہ حال بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس کو مارا۔ ہر ایک بولنے لگا میں نے مارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کر لیں۔؟ وہ بولے نہیں تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی تلواریں دیکھیں اور فرمایا: تم دونوں نے اس کو مارا ہے۔ پھر اس کا سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو دلایا اور دونوں لڑکے یہی تھے ایک معاذ بن عمرو بن جموح اور دوسرے معاذ بن عفراء۔

صحيح مسلم # 4569
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp