كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے

وحدثنا ابو الطاهر ، وحرملة واللفظ له، اخبرنا عبد الله بن وهب ، قال: سمعت مالك بن انس ، يقول: حدثني يحيي بن سعيد ، عن عمر بن كثير بن افلح ، عن ابي محمد مولى ابي قتادة، عن ابي قتادة ، قال: " خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام حنين، فلما التقينا كانت للمسلمين جولة، قال: فرايت رجلا من المشركين قد علا رجلا من المسلمين، فاستدرت إليه حتى اتيته من ورائه فضربته على حبل عاتقه واقبل علي، فضمني ضمة وجدت منها ريح الموت ثم ادركه الموت، فارسلني، فلحقت عمر بن الخطاب، فقال: ما للناس؟، فقلت: امر الله، ثم إن الناس رجعوا وجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه، قال: فقمت، فقلت: من يشهد لي، ثم جلست، ثم قال: مثل ذلك، فقال: فقمت، فقلت من يشهد لي، ثم جلست، ثم قال: ذلك الثالثة، فقمت، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما لك يا ابا قتادة؟، فقصصت عليه القصة، فقال رجل من القوم: صدق يا رسول الله، سلب ذلك القتيل عندي فارضه من حقه، وقال ابو بكر الصديق: لا ها الله إذا لا يعمد إلى اسد من اسد الله، يقاتل عن الله وعن رسوله، فيعطيك سلبه؟، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صدق فاعطه إياه "، فاعطاني، قال: فبعت الدرع فابتعت به مخرفا في بني سلمة فإنه لاول مال تاثلته في الإسلام، وفي حديث الليث، فقال ابو بكر: كلا لا يعطيه اضيبع من قريش ويدع اسدا من اسد الله، وفي حديث الليث لاول مال تاثلته.

‏‏‏‏ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے جس سال حنین کی لڑائی ہوئی۔ جب ہم لوگ دشمنوں سے بھڑے تو مسلمانوں کو شکست ہوئی (یعنی کچھ مسلمان بھاگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان میں جمے رہے) پھر میں نے ایک کافر کو دیکھا وہ ایک مسلمان پر چڑھا تھا (اس کے مارنے کو) میں گھوم کر اس کی طرف آیا اور ایک مار لگائی مونڈے اور گردن کے بیچ میں، اس نے مجھ کو ایسا دبایا کہ موت کی تصویر میری آنکھوں میں پھر گئی بعد اس کے وہ خود مر گیا اور اس نے مجھ کو چھوڑ دیا۔ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا انہوں نے کہا لوگوں کو کیا ہو گیا (جو ایسا بھاگ نکلے) میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ پھر لوگ لوٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو مارا ہو اور وہ گواہ رکھتا ہو تو سامان اس کا وہی لے جائے۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سن کر میں کھڑا ہوا پھر میں نے کہا: میرا گواہ کون ہے بعد اس کے میں بیٹھ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ایسا ہی فرمایا: میں کھڑا ہوا پھر میں نے کہا: میرے لیے کون گواہی دے گا، میں بیٹھ گیا۔ پھر تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا: میں کھڑا ہوا آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ہوا تجھے اے ابوقتادہ۔ میں نے سارا قصہ بیان کیا ایک شخص بولا سچ کہتے ہیں ابو قتادہ یا رسول اللہ! اس شخص کا سامان میرے پاس ہے تو راضی کر دیجئئے ان کو کہ اپنا حق مجھے دے دیں۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں اللہ کی قسم ایسا کبھی نہیں ہو گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی قصد نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ شیروں میں سے ایک شیر جو لڑتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے اسباب تجھے دلانے کے لیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سچ کہتے ہیں (اس حدیث سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بڑی فضیلت ثابت ہوئی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے فتویٰ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فتوے کو سچ کہا) تو دے دے ابوقتادہ کو وہ سامان۔ پھر اس نے وہ سامان مجھ کو دے دیا۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے (اس سامان میں سے) زرہ کو بیچا اور اس کے بدلے میں ایک باغ خریدا بنو سلمہ کے محلہ میں اور یہ پہلا مال ہے جس کو میں نے کمایا اسلام کی حالت میں۔ اور لیث کی روایت میں یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: ہرگز نہیں رسول اللہ یہ اسباب کبھی نہ دیں گے قریش کی ایک لومڑی کو۔ کبھی نہ چھوڑیں گے ایک شیر کو اللہ کے شیروں میں سے۔

صحيح مسلم # 4568
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp