حدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار واللفظ لابن المثنى، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن سماك بن حرب ، عن مصعب بن سعد ، عن ابيه ، قال: " نزلت في اربع آيات اصبت سيفا، فاتى به النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، نفلنيه؟، فقال: ضعه، ثم قام، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ضعه من حيث اخذته، ثم قام، فقال: نفلنيه يا رسول الله؟، فقال: ضعه، فقام، فقال: يا رسول الله، نفلنيه ااجعل كمن لا غناء له؟، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ضعه من حيث اخذته "، قال: فنزلت هذه الآية يسالونك عن الانفال قل الانفال لله والرسول سورة الانفال آية 1.
سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے سنا اپنے باپ سے، کہا کہ میرے بارے میں چار آیتیں اتریں، ایک بار ایک تلوار مجھے ملی لوٹ میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی، میں نے کہا: یا رسول اللہ! وہ مجھے عنایت فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کو رکھ دے۔“ پھر میں کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رکھ دے اس کو جہاں سے تو نے لیا ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تلوار مجھے دے دیجیئے کیا میں اس شخص کی طرح رہوں گا جو نادار ہے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رکھ دے اس کو جہاں سے تو نے لیا ہے۔“ تب یہ آیت اتری «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ» (۸-الأنفال:۱)۔