كِتَاب اللُّقَطَةِ کسی کو ملنے والی چیز جس کے مالک کا پتہ نہ ہو

حدثنا شيبان بن فروخ ، حدثنا ابو الاشهب ، عن ابي نضرة ، عن ابي سعيد الخدري ، قال: بينما نحن في سفر مع النبي صلى الله عليه وسلم، إذ جاء رجل على راحلة له، قال: فجعل يصرف بصره يمينا وشمالا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من كان معه فضل ظهر فليعد به على من لا ظهر له، ومن كان له فضل من زاد فليعد به على من لا زاد له "، قال: فذكر من اصناف المال ما ذكر حتى راينا انه لا حق لاحد منا في فضل.

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اتنے میں ایک شخص اونٹنی پر سوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس فاضل سواری ہو وہ اس کو دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس فاضل توشہ ہو وہ اس کو دیدے جس کے پاس توشہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی قسم کے مال بیان کیے یہاں تک کہ ہم یہ سمجھے کہ ہم میں سے کسی کا حق نہیں ہے اس مال میں جو اس کی حاجت سے فاضل ہو۔

صحيح مسلم # 4517
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp