كِتَاب اللُّقَطَةِ کسی کو ملنے والی چیز جس کے مالک کا پتہ نہ ہو

حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث . ح وحدثنا محمد بن رمح ، اخبرنا الليث ، عن يزيد بن ابي حبيب ، عن ابي الخير ، عن عقبة بن عامر ، انه قال: قلنا: يا رسول الله، إنك تبعثنا فننزل بقوم فلا يقروننا فما ترى؟، فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن نزلتم بقوم فامروا لكم بما ينبغي للضيف فاقبلوا، فإن لم يفعلوا فخذوا منهم حق الضيف الذي ينبغي لهم ".

‏‏‏‏ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ہم کو بھیجتے ہیں پھر ہم اترتے ہیں کسی قوم کے پاس، وہ ہماری مہمانی نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اترو کسی قوم کے پاس پھر وہ تمہارے واسطے وہ سامان کر دیں جو مہمان کے لیے چاہیے تو تم قبول کرو اگر وہ نہ کریں تو ان سے مہمانی کا حق جیسا ان کو چاہیے لے لو۔

صحيح مسلم # 4516
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp