كِتَاب اللُّقَطَةِ کسی کو ملنے والی چیز جس کے مالک کا پتہ نہ ہو

وحدثني ابو الطاهر احمد بن عمرو بن سرح ، اخبرنا عبد الله بن وهب ، حدثني الضحاك بن عثمان ، عن ابي النضر ، عن بسر بن سعيد ، عن زيد بن خالد الجهني ، قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اللقطة، فقال: " عرفها سنة، فإن لم تعترف، فاعرف عفاصها ووكاءها ثم كلها، فإن جاء صاحبها فادها إليه "،

‏‏‏‏ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا لقطہ کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک دریافت کر۔ پھر اگر کوئی نہ پہچانے تو اس کا تھیلہ اور بندھن یاد رکھ لے اور کھا ڈال (خرچ کر کے) جب اس کا مالک آئے تو ادا کر۔

صحيح مسلم # 4504
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp