كِتَاب اللُّقَطَةِ کسی کو ملنے والی چیز جس کے مالک کا پتہ نہ ہو

وحدثني إسحاق بن منصور ، اخبرنا حبان بن هلال ، حدثنا حماد بن سلمة ، حدثني يحيى بن سعيد ، وربيعة الراي ابن ابي عبد الرحمن ، عن يزيد مولى المنبعث، عن زيد بن خالد الجهني : " ان رجلا سال النبي صلى الله عليه وسلم عن ضالة الإبل زاد ربيعة " فغضب حتى احمرت وجنتاه "، واقتص الحديث بنحو حديثهم وزاد " فإن جاء صاحبها فعرف عفاصها وعددها ووكاءها فاعطها إياه وإلا فهي لك ".

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ جب اس کا مالک آئے تو پوچھ اس سے تھیلی کو (وہ کیسی ہے؟) اور گنتی کو (کتنے روپے ہیں؟) اور بندھن کو (وہ کیسا ہے؟) پھر اگر وہ بیان کرے تو دے دے اس کو ورنہ وہ تیرا ہے۔

صحيح مسلم # 4503
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp