وحدثني احمد بن عثمان بن حكيم الاودي ، حدثنا خالد بن مخلد ، حدثني سليمان وهو ابن بلال ، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن ، عن يزيد مولى المنبعث، قال: سمعت زيد بن خالد الجهني , يقول: اتى رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر نحو حديث إسماعيل بن جعفر غير انه قال: " فاحمار وجهه وجبينه وغضب " وزاد بعد قوله: " ثم عرفها سنة فإن لم يجئ صاحبها كانت وديعة عندك ".
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اور پیشانی سرخ ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہوئے اور زیادہ کیا اس کے بعد کہ ”ایک سال تک بتلا۔ پھر اگر اس کا مالک نہ آئے تو وہ تیرے پاس امانت رہے گا۔“