كِتَاب الْأَقْضِيَةِ جھگڑوں میں فیصلے کرنے کے طریقے اور آداب

حدثنا محمد بن رافع ، حدثنا عبد الرزاق ، حدثنا معمر ، عن همام بن منبه ، قال: هذا ما حدثنا ابو هريرة ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر احاديث منها، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اشترى رجل من رجل عقارا له، فوجد الرجل الذي اشترى العقار في عقاره جرة فيها ذهب، فقال له الذي اشترى العقار: خذ ذهبك مني إنما اشتريت منك الارض ولم ابتع منك الذهب، فقال الذي شرى الارض: إنما بعتك الارض وما فيها، قال: فتحاكما إلى رجل، فقال الذي تحاكما إليه: الكما ولد، فقال احدهما: لي غلام، وقال الآخر: لي جارية، قال: انكحوا الغلام الجارية، وانفقوا على انفسكما منه وتصدقا ".

‏‏‏‏ ہمام بن منبہ سے روایت ہے، یہ وہ حدیثیں ہیں جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیں ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر۔ پھر بیان کیں کئی حدیثیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص نے دوسرے شخص سے زمین خریدی پھر جس نے زمین خریدی اس نے ایک گھڑا سونے کا بھرا ہوا اس میں پایا، جس نے خریدی تھی وہ کہنے لگا (بیچنے والے سے): تو اپنا سونا لے لے میں نے تجھ سے زمین خریدی تھی، سونا نہیں خریدا تھا، جس نے زمین بیچی تھی، اس نے کہا: میں نے تیرے ہاتھ زمین بیچی اور جو کچھ اس میں تھا۔ (تو سونا بھی تیرا ہے سبحان اللہ! بائع اور مشتری دونوں کیسے خوش نیت اور ایماندار تھے) پھر دونوں نے فیصلہ چاہا ایک شخص سے، وہ بولا: تمہاری اولاد ہے؟ ایک نے کہا: میرا ایک لڑکا ہے، دوسرے نے کہا: میری ایک لڑکی ہے۔ اس نے کہا: اچھا اس کے لڑکے کا نکاح اس لڑکی سے کر دو۔ اور اس سونے کو دونوں پر خرچ کرو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں بھی دو۔ (غرض صلح کرا دی اور یہ مستحب ہے تاکہ دونوں خوش رہیں)۔

صحيح مسلم # 4497
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp