كِتَاب الْأَقْضِيَةِ جھگڑوں میں فیصلے کرنے کے طریقے اور آداب

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا إسماعيل بن علية ، عن خالد الحذاء ، حدثني ابن اشوع ، عن الشعبي ، حدثني كاتب المغيرة بن شعبة ، قال: كتب معاوية إلى المغيرة ، اكتب إلي بشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكتب إليه اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إن الله كره لكم ثلاثا قيل، وقال، وإضاعة المال، وكثرة السؤال ".

‏‏‏‏ شعبی سے روایت ہے مجھ سے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے منشی نے بیان کیا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا مجھے ایسی بات لکھو جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے لکھا: میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے تمہارے لیے تین باتوں کو ایک بے فائدہ گفتگو (فلاں ایسے تھے فلاں ایسے ہیں سلیم شاہ کی داڑھی بڑی تھی شیر کی چھوٹی) دوسرے مال کو تباہ کرنا (بیجا خرچ کرنا) تیسرے بہت پوچھنا۔

صحيح مسلم # 4485
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp