كِتَاب الْأَقْضِيَةِ جھگڑوں میں فیصلے کرنے کے طریقے اور آداب

حدثنا زهير بن حرب ، حدثنا يعقوب بن إبراهيم ، حدثنا ابن اخي الزهري ، عن عمه ، اخبرني عروة بن الزبير ، ان عائشة قالت: " جاءت هند بنت عتبة بن ربيعة، فقالت: يا رسول الله، والله ما كان على ظهر الارض خباء احب إلي من ان يذلوا من اهل خبائك، وما اصبح اليوم على ظهر الارض خباء احب إلي من ان يعزوا من اهل خبائك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وايضا والذي نفسي بيده، ثم قالت: يا رسول الله، إن ابا سفيان رجل مسيك، فهل علي حرج من ان اطعم من الذي له عيالنا؟، فقال لها: لا إلا بالمعروف ".

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہند بنت عتبہ آئیں اور کہنے لگیں: کہ اے اللہ کے رسول! مجھے سب سے زیادہ پسند یہ بات تھی کہ آپ کے گھر والوں کو ذلت ہو اور آج کے مجھے آپ کے گھر والوں کی عزت ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے اور بھی زیادہ ہو گی۔ پھر ہند نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابوسفیان کنجوس آدمی ہے۔ کیا مجھے گناہ ہو گا اگر میں اس کے مال میں سے اپنے بچوں کو کھلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ نہیں مگر دستور کے موافق ہو۔

صحيح مسلم # 4480
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp