كِتَاب الْأَقْضِيَةِ جھگڑوں میں فیصلے کرنے کے طریقے اور آداب

وحدثني حرملة بن يحيي ، اخبرنا عبد الله بن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، اخبرني عروة بن الزبير ، عن زينب بنت ابي سلمة ، عن ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم " سمع جلبة خصم بباب حجرته فخرج إليهم، فقال: إنما انا بشر وإنه ياتيني الخصم، فلعل بعضهم ان يكون ابلغ من بعض، فاحسب انه صادق فاقضي له، فمن قضيت له بحق مسلم، فإنما هي قطعة من النار فليحملها او يذرها "،

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھگڑنے والے کا غل سنا، اپنے حجرے کے دروازے پر تو باہر نکلے اور فرمایا: میں آدمی ہوں اور میرے پاس کوئی مقدمہ والا آتا ہے اور ایک دوسرے سے بہتر بات کرتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سچا ہے اور اس کے موافق فیصلہ کر دیتا ہوں تو جس کو میں کسی مسلمان کا حق دلا دوں وہ انگار کا ایک ٹکڑا ہے اس کو لے یا چھوڑ دے۔

صحيح مسلم # 4475
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp