كِتَاب الْأَقْضِيَةِ جھگڑوں میں فیصلے کرنے کے طریقے اور آداب

حدثنا يحيي بن يحيي التميمي ، اخبرنا ابو معاوية ، عن هشام بن عروة ، عن ابيه ، عن زينب بنت ابي سلمة ، عن ام سلمة ، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إنكم تختصمون إلي ولعل بعضكم ان يكون الحن بحجته من بعض، فاقضي له على نحو مما اسمع منه، فمن قطعت له من حق اخيه شيئا، فلا ياخذه فإنما اقطع له به قطعة من النار "،

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے پاس مقدمہ لاتے ہو اور تم میں سے کوئی دوسرے سے زیادہ اپنی بات کو ثابت کرتا ہے اور میں اس کے موافق حکم دیتا ہوں پھر جس کو میں اس کے بھائی کا کچھ حق دلاؤں (اور نفس الامر میں وہ اس کا حق نہ ہو) تو اس کو نہ لے۔ کیونکہ میں ایک جہنم کا ٹکڑا اسے دلا رہا ہوں۔

صحيح مسلم # 4473
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp