حدثنا يحيي بن يحيي التميمي ، وابو بكر بن ابي شيبة ، وعمرو الناقد ، وإسحاق بن إبراهيم ، وابن نمير كلهم، عن ابن عيينة واللفظ لعمرو، قال: حدثنا سفيان بن عيينة ، عن الزهري ، عن ابي إدريس ، عن عبادة بن الصامت ، قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في مجلس، فقال: " تبايعوني على ان لا تشركوا بالله شيئا، ولا تزنوا، ولا تسرقوا، ولا تقتلوا النفس التي حرم الله إلا بالحق، فمن وفى منكم، فاجره على الله ومن اصاب شيئا من ذلك، فعوقب به فهو كفارة له ومن اصاب شيئا من ذلك، فستره الله عليه فامره إلى الله إن شاء عفا عنه، وإن شاء عذبه "،
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیعت کرو مجھ سے اس اقرار پر کہ اللہ تعالیٰ کا شریک کسی کو نہیں کرنے کے اور زنا اور چوری اور ناحق خون جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا نہیں کریں گے پھر جو کوئی اپنے اقرار کو پورا کرے گا اس کا ثواب اللہ تعالیٰ پر ہو گا اور جو کوئی کام ان میں سے کر بیٹھے گا پھر اس کو دنیا میں اس کی سزا ملے گی (یعنی حد لگے گی) تو وہی اس کے گناہ کا کفارہ ہے اور جو دنیا میں اللہ تعالیٰ اس کے کام کو چھپا لے تو (عاقبت میں) اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے چاہے اس کو معاف کر دے چاہے عذاب کر لے۔