حدثنا محمد بن ابي بكر المقدمي ، حدثنا سليمان ابو داود ، حدثنا زائدة ، عن السدي ، عن سعد بن عبيدة ، عن ابي عبد الرحمن ، قال: خطب علي ، فقال: " يا ايها الناس اقيموا على ارقائكم الحد من احصن منهم، ومن لم يحصن، فإن امة لرسول الله صلى الله عليه وسلم زنت فامرني ان اجلدها، فإذا هي حديث عهد بنفاس، فخشيت إن انا جلدتها ان اقتلها، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: احسنت "،
ابوعبدالرحمٰن سے روایت ہے، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا تو فرمایا: اے لوگو! اپنی لونڈی، غلاموں کو حد لگاؤ۔ خواہ محصن ہوں یا نہ ہوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم کیا اسے حد لگانے کا۔ دیکھا تو وہ ابھی جنی تھی۔ میں ڈرا کہیں اس کو کوڑے ماروں وہ مر جائے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا۔“ (جو ابھی کوڑے لگانا موقوف رکھا)۔