كِتَاب الْحُدُودِ حدود کا بیان

حدثنا يحيى بن يحيى ، وابو بكر بن ابي شيبة كلاهما، عن ابي معاوية، قال يحيى: اخبرنا ابو معاوية ، عن الاعمش ، عن عبد الله بن مرة ، عن البراء بن عازب ، قال: " مر على النبي صلى الله عليه وسلم بيهودي محمما مجلودا، فدعاهم صلى الله عليه وسلم، فقال: هكذا تجدون حد الزاني في كتابكم؟، قالوا: نعم، فدعا رجلا من علمائهم، فقال: انشدك بالله الذي انزل التوراة على موسى اهكذا تجدون حد الزاني في كتابكم؟، قال: لا ولولا انك نشدتني بهذا لم اخبرك، نجده الرجم ولكنه كثر في اشرافنا، فكنا إذا اخذنا الشريف تركناه وإذا اخذنا الضعيف اقمنا عليه الحد، قلنا: تعالوا فلنجتمع على شيء نقيمه على الشريف والوضيع، فجعلنا التحميم والجلد مكان الرجم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم إني اول من احيا امرك إذ اماتوه فامر به فرجم " فانزل الله عز وجل يايها الرسول لا يحزنك الذين يسارعون في الكفر إلى قوله إن اوتيتم هذا فخذوه سورة المائدة آية 41 يقول ائتوا محمدا صلى الله عليه وسلم، فإن امركم بالتحميم والجلد فخذوه، وإن افتاكم بالرجم فاحذروا، فانزل الله تعالى ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الكافرون سورة المائدة آية 44، ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الظالمون سورة المائدة آية 45، ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الفاسقون سورة المائدة آية 47 في الكفار كلها،

‏‏‏‏ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک یہودی نکلا، کوئلے سے کالا کیا ہوا اور کوڑے کھایا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو بلایا اور فرمایا: کیا تم زانی کی یہی سزا پاتے ہو اپنی کتاب میں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عالموں میں سے ایک شخص کو بلایا اور فرمایا: میں تجھ کو قسم دیتا ہوں اللہ کی جس نے اتارا تورات کو موسیٰ علیہ السلام پر کیا تمہاری کتاب میں زنا کی یہی حد ہے؟ وہ بولا: نہیں اور جو تم مجھ کو یہ قسم نہ دیتے تو میں نہ کہتا ہماری کتاب میں تو زنا کی حد رجم ہے لیکن ہم میں کے عزت دار لوگ بہت زنا کرنے لگے تو جب ہم کسی بڑے آدمی کو زنا میں پکڑتے تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب غریب آدمی کو پکڑتے تو اس پر حد جاری کرتے، آخر ہم نے کہا: سب جمع ہوں اور سزا ٹھہرا لیں جو شریف رذیل سب کو دیا کریں پھر ہم نے منہ کالا کرنا کوئلے سے اور کوڑے لگانا رجم کے بدلے مقرر کیا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ! میں سب سے پہلے تیرے حکم کو زندہ کرتا ہوں جب ان لوگوں نے اس کو مار ڈالا۔ (یعنی ختم کر ڈالا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا وہ یہودی رجم کیا گیا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لاَ يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِى الْكُفْرِ» یہاں تک کہ فرمایا «إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ» (۵-المائدہ:۴۱) یعنی یہودیہ کہتے ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے کا حکم دیں تو اس پر عمل کرو اور جو رجم کا فتویٰ دیں تو بچے رہو (یعنی نہ مانو) پھر اللہ نے یہ آیتیں اتاریں «لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ» (۵-المائدہ:۴۴)، «‏‏‏‏لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ» (۵-المائدہ:۴۵)، «وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ» (۵-المائدہ:۴۷) جو اللہ کے اتارے موافق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں، جو اللہ کے اتارے موافق نہ کریں وہ ظالم ہیں، جو اللہ کے اتارے موافق فیصلہ نہ کریں وہ فاسق ہیں۔ یہ سب آیتیں کافروں کے حق میں اتریں۔

صحيح مسلم # 4440
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp