وحدثني ابو الطاهر ، وحرملة بن يحيى واللفظ لحرملة، قالا: اخبرنا ابن وهب ، قال: اخبرني يونس بن يزيد ، عن ابن شهاب ، قال: اخبرني عروة بن الزبير ، عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، " ان قريشا اهمهم شان المراة التي سرقت في عهد النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة الفتح، فقالوا: من يكلم فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم؟، فقالوا: ومن يجترئ عليه إلا اسامة بن زيد حب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاتي بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فكلمه فيها اسامة بن زيد، فتلون وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: اتشفع في حد من حدود الله؟، فقال له اسامة: استغفر لي يا رسول الله، فلما كان العشي قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فاختطب، فاثنى على الله بما هو اهله، ثم قال: اما بعد فإنما اهلك الذين من قبلكم انهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف، تركوه، وإذا سرق فيهم الضعيف، اقاموا عليه الحد، وإني والذي نفسي بيده لو ان فاطمة بنت محمد سرقت، لقطعت يدها، ثم امر بتلك المراة التي سرقت فقطعت يدها "، قال يونس: قال ابن شهاب: قال عروة: قالت عائشة: فحسنت توبتها بعد وتزوجت وكانت تاتيني بعد ذلك، فارفع حاجتها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم،
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جو بی بی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی، قریش کو فکر پیدا ہوئی اس عورت کی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں جب مکہ فتح ہوا چوری کی۔ لوگوں نے کہا: کون کہے گا اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، انہوں نے کہا: اتنی جرأت کون کر سکتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوا اسامہ بن زید کے جو چہیتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا، آخر وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے سفارش کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا (غصے سے) اور فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ کی حد میں سفارش کرتا ہے۔“ اسامہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ میرے لیے دعا کیجئیے معافی کی، جب شام ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ پڑھا، پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی جیسے اس کو شایان ہے۔ پھر فرمایا: ”بعد اس کے! تم سے پہلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ جب کوئی عزت دار آدمی چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب غریب ناتواں کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اور میں تو اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ (رضی اللہ عنہا)، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: (ہاتھ کاٹنے کے بعد) وہ چور عورت اچھی ہو گئی اور اس نے نکاح کر لیا وہ میرے پاس آتی میں اس کے مطلب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کر دیتی۔