كِتَاب الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتماعی قسموں، لوٹ مار کرنے والوں (کی سزا)، قصاص اور دیت کے مسائل

وحدثني محمد بن رافع ، حدثنا يحيى بن آدم ، حدثنا مفضل ، عن منصور ، عن إبراهيم ، عن عبيد بن نضيلة ، عن المغيرة بن شعبة " ان امراة قتلت ضرتها بعمود فسطاط، فاتي فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقضى على عاقلتها بالدية وكانت حاملا فقضى في الجنين بغرة، فقال بعض عصبتها: اندي من لا طعم ولا شرب ولا صاح فاستهل ومثل ذلك يطل، قال: فقال: سجع كسجع الاعراب "،

‏‏‏‏ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک عورت نے اپنی سوت کو خیمہ کی لکڑی سے مارا، پھر یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاتلہ کے کنبے والے دیت دیں گے۔ مقتولہ پیٹ سے تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ کے بچے کی دیت ایک غلام دلایا قاتلہ کے کنبے والوں میں سے۔ ایک شخص بولا: ہم کیونکر دیت دیں اس کی جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ رویا، نہ چلایا یہ تو گیا آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گنواروں کی طرح مسجع اور مقفیٰ بولتا ہے۔

صحيح مسلم # 4394
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp