كِتَاب الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتماعی قسموں، لوٹ مار کرنے والوں (کی سزا)، قصاص اور دیت کے مسائل

حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي ، اخبرنا جرير ، عن منصور ، عن إبراهيم ، عن عبيد بن نضيلة الخزاعي ، عن المغيرة بن شعبة ، قال: " ضربت امراة ضرتها بعمود فسطاط وهي حبلى، فقتلتها، قال: وإحداهما لحيانية، قال: فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم دية المقتولة على عصبة القاتلة وغرة لما في بطنها، فقال رجل من عصبة القاتلة: انغرم دية من لا اكل ولا شرب ولا استهل فمثل ذلك يطل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اسجع كسجع الاعراب "، قال: وجعل عليهم الدية.

‏‏‏‏ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک عورت نے اپنی سوت کو ڈیرے کی لکڑی سے مارا وہ حاملہ تھی مر گئی۔ ان میں سے ایک بنی لحیان کی عورت تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے کنبے والوں سے دلائی اور پیٹ کے بچے کی دیت ایک غلام مقرر کی ایک شخص جو قاتلہ کی قوم سے تھا بولا: ہم کیونکر تاوان دیں اس کا جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ چلایا ایسا گیا آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدویوں کی طرح قافیہ دار عبارت بولتا ہے اور واجب کیا ان پر دیت کو۔

صحيح مسلم # 4393
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp