وحدثنا عبد بن حميد ، اخبرنا عبد الرزاق ، اخبرنا معمر ، عن الزهري ، عن ابي سلمة ، عن ابي هريرة ، قال: اقتتلت امراتان وساق الحديث بقصته، ولم يذكر " وورثها ولدها ومن معهم " وقال: فقال قائل: كيف نعقل ولم يسم حمل بن مالك؟.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دوسری روایت بھی ایسی ہی ہے مگر اس میں یہ نہیں ہے اس عورت کا وارث اس کا لڑکا ہو گا اور جو وارث اس کے ساتھ ہوں اور نہ نام ہے حمل بن مالک بن نابغہ کا بلکہ یہ ہے کسی نے کہا: ہم کیونکر دیت دیں ایسے کی جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا، نہ چلایا تو گیا آیا۔