كِتَاب الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتماعی قسموں، لوٹ مار کرنے والوں (کی سزا)، قصاص اور دیت کے مسائل

حدثني محمد بن حاتم بن ميمون ، حدثنا يحيى بن سعيد ، حدثنا قرة بن خالد ، حدثنا محمد بن سيرين ، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة ، وعن رجل آخر هو في نفسي افضل من عبد الرحمن بن ابي بكرة، وحدثنا محمد بن عمرو بن جبلة ، واحمد بن خراش ، قالا: حدثنا ابو عامر عبد الملك بن عمرو ، حدثنا قرة بإسناد يحيى بن سعيد، وسمى الرجل حميد بن عبد الرحمن ، عن ابي بكرة ، قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم النحر، فقال: " اي يوم هذا؟ "، وساقوا الحديث بمثل حديث ابن عون، غير انه لا يذكر واعراضكم، ولا يذكر ثم انكفا إلى كبشين وما بعده، وقال في الحديث " كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، إلى يوم تلقون ربكم الا هل بلغت؟ " قالوا: نعم، قال: " اللهم اشهد ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا یوم النحر کو تو فرمایا:یہ کون سا دن ہے؟ اور بیان کیا اسی حدیث کو جیسا اوپر گزرا مگر اس میں عزتوں کا ذکر نہیں ہے، نہ دو مینڈھوں کے کاٹنے کا اور اس کے بعد کا مضمون اس روایت میں یہ ہے کہ جیسے تمہارے اس دن کی حرمت اس مہینے اس شہر میں اس دن تک جب ملو گے اپنے پروردگار سے آگاہ رہو میں نے پہنچا دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں پہنچا دیا (اللہ تعالیٰ کے حکم کو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہ۔

صحيح مسلم # 4386
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp