كِتَاب الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتماعی قسموں، لوٹ مار کرنے والوں (کی سزا)، قصاص اور دیت کے مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، ويحيى بن حبيب الحارثي وتقاربا في اللفظ، قالا: حدثنا عبد الوهاب الثقفي ، عن ايوب ، عن ابن سيرين ، عن ابن ابي بكرة ، عن ابي بكرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، انه قال: " إن الزمان قد استدار كهيئته يوم خلق الله السماوات والارض السنة اثنا عشر شهرا، منها اربعة حرم، ثلاثة متواليات ذو القعدة وذو الحجة والمحرم ورجب شهر مضر الذي بين جمادى وشعبان، ثم قال: اي شهر هذا؟، قلنا: الله ورسوله اعلم، قال: فسكت حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه، قال: اليس ذا الحجة؟، قلنا: بلى، قال: فاي بلد هذا؟، قلنا: الله ورسوله اعلم، قال: فسكت، حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه، قال: اليس البلدة؟، قلنا: بلى، قال: فاي يوم هذا؟، قلنا: الله ورسوله اعلم، قال: فسكت، حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه، قال: اليس يوم النحر؟، قلنا: بلى يا رسول الله، قال: فإن دماءكم واموالكم، قال محمد: واحسبه قال واعراضكم حرام عليكم كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا، وستلقون ربكم، فيسالكم عن اعمالكم، فلا ترجعن بعدي كفارا او ضلالا يضرب بعضكم رقاب بعض، الا ليبلغ الشاهد الغائب، فلعل بعض من يبلغه يكون اوعى له من بعض من سمعه، ثم قال: الا هل بلغت؟ "، قال ابن حبيب في روايته: ورجب مضر، وفي رواية ابي بكر فلا ترجعوا بعدي ,

‏‏‏‏ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ گھوم کر اپنی اصلی حالت پر ویسا ہو گیا جیسا اس دن تھا، جب اللہ تعالیٰ نے زمین آسمان بنائے تھے، برس بارہ مہینے کا ہے ان میں چار مہینے حرام ہیں۔ (یعنی ان میں لڑنا بھڑنا درست نہیں) تین مہینے تو برابر لگے ہوئے ہیں، ذیقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور چوتھا رجب، مضر کا مہینہ جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے بیچ میں ہے۔ بعد اس کے فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے کہا اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو رہے یہاں تک کہ ہم سمجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینہ کا کچھ اور نام رکھیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا مہینہ ذی الحجہ کا نہیں؟ ہم نے عرض کیا: ذی الحجہ کا مہینہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر چپ ہو رہے یہاں تک کہ ہم سمجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شہر کا کچھ اور نام رکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ شہر نہیں ہے؟ (یعنی مکہ کا شہر) ہم نے عرض کیا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو رہے یہاں تک کہ ہم یہ سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اور کوئی نام رکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ یوم النحر نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بے شک یہ یوم النحر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تمہاری جانیں اور تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں (عزتیں) حرام ہیں تم پر جیسے یہ دن حرام ہے، اس شہر میں، اس مہینے میں (جس کی حرمت میں کسی کو شک نہیں ایسے ہی مسلمان کو جان، عزت، دولت بھی حرام ہے اس کا لینا بلاوجہ شرعی درست نہیں) اور قریب تم ملو گے اپنے پروردگار سے وہ پوچھے گا تمہارے عملوں کو، پھر مت ہو جانا میرے بعد گمراہ کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو (یعنی آپس میں لڑو) اور ایک دوسرے کو مارو۔ (یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری نصیحت اور بہت بڑی اور عمدہ نصیحت تھی افسوس ہے کہ مسلمانوں نے تھوڑے دنوں تک اس پر عمل کیا آخر آفت میں گرفتار ہوئے اور عقبیٰ کو الگ تباہ کیا) جو حاضر ہے وہ یہ حکم غائب کو پہنچا دے کیونکہ بعض وہ شخص جس کو پہنچائے گا زیادہ یاد رکھنے والا ہو گا۔ اس وقت سننے والے سے۔ پھر فرمایا:دیکھو میں نے اللہ کا حکم پہنچا دیا۔

صحيح مسلم # 4383
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp