كِتَاب الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتماعی قسموں، لوٹ مار کرنے والوں (کی سزا)، قصاص اور دیت کے مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابو اسامة ، اخبرنا ابن جريج ، اخبرني عطاء ، اخبرني صفوان بن يعلى بن امية ، عن ابيه ، قال: غزوت مع النبي صلى الله عليه وسلم غزوة تبوك، قال: وكان يعلى يقول: تلك الغزوة اوثق عملي عندي، فقال عطاء: قال صفوان: قال يعلى: كان لي اجير فقاتل إنسانا فعض احدهما يد الآخر، قال: لقد اخبرني صفوان ايهما عض الآخر، فانتزع المعضوض يده من في العاض، فانتزع إحدى ثنيتيه، فاتيا النبي صلى الله عليه وسلم فاهدر ثنيته "،

‏‏‏‏ سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے جہاد کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ تبوک میں اور وہ سب سے زیادہ بھروسے کا عمل ہے میرا تو میرا ایک نوکر تھا، وہ ایک شخص سے لڑا۔ اور دونوں میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ دانت سے کاٹا۔ عطاء نے کہا: مجھ سے صفوان بن یعلیٰ نے بیان کیا تھا۔ کس نے کس کا ہاتھ کاٹا تھا۔ پھر جس کا ہاتھ کاٹا تھا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا کاٹنے والے کے منہ سے، اس کا ایک دانت گر پڑا۔ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانت کو لغو کر دیا (یعنی اس کی دیت نہیں دلائی)۔

صحيح مسلم # 4372
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp