حدثنا احمد بن عثمان النوفلي ، حدثنا قريش بن انس ، عن ابن عون ، عن محمد بن سيرين ، عن عمران بن حصين " ان رجلا عض يد رجل، فانتزع يده فسقطت ثنيته او ثناياه، فاستعدى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما تامرني تامرني ان آمره ان يدع يده في فيك تقضمها كما يقضم الفحل، ادفع يدك حتى يعضها ثم انتزعها ".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص نے دوسرے کا ہاتھ کاٹا اس نے اپنا ہاتھ کھینچا، اس کے دانت نکل پڑے، جس کے دانت نکل آئے تھے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا چاہتا ہے؟ کیا یہ چاہتا ہے میں اس کو حکم دوں وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں دے پھر تو اس کو چپا ڈالے اس طرح جیسے اونٹ چباتا ہے اچھا تو بھی اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے پھر گھسیٹ“ ”(یعنی اگر تیرا جی چاہے تو اس طرح قصاص ہو سکتا ہے کہ تو بھی اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے پھر کھینچ لے یا تو اس کے دانت بھی ٹوٹ جائیں گے یا تیرا ہاتھ زخمی ہو گا)۔