كِتَاب الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتماعی قسموں، لوٹ مار کرنے والوں (کی سزا)، قصاص اور دیت کے مسائل

حدثنا عبد بن حميد ، حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا معمر ، عن ايوب ، عن ابي قلابة ، عن انس " ان رجلا من اليهود قتل جارية من الانصار على حلي لها، ثم القاها في القليب ورضخ راسها بالحجارة، فاخذ فاتي به رسول الله صلى الله عليه وسلم: فامر به ان يرجم حتى يموت، فرجم حتى مات "،

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک یہودی نے انصار کی ایک لڑکی کو قتل کیا، کچھ زیور کے لیے جو پہنے تھی پھر اس کو کنوئیں میں ڈال دیا۔ اور اس کا سر پتھر سے کچل دیا، بعد اس کے وہ پکڑا گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا اس کو پتھر مارنے کا مرنے تک وہ پتھروں سے مارا گیا یہاں تک کہ مر گیا۔

صحيح مسلم # 4363
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp