وحدثنا هارون بن عبد الله ، حدثنا مالك بن إسماعيل ، حدثنا زهير ، حدثنا سماك بن حرب ، عن معاوية بن قرة ، عن انس ، قال: اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم " نفر من عرينة، فاسلموا وبايعوه وقد وقع بالمدينة الموم وهو البرسام "، ثم ذكر نحو حديثهم وزاد " وعنده شباب من الانصار قريب من عشرين، فارسلهم إليهم وبعث معهم قائفا يقتص اثرهم "
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عرینہ سے چند لوگ آئے وہ مسلمان ہو گئے۔ انہوں نے بیعت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینہ میں، اس وقت موم یعنی برسام کی بیماری پھیلی۔ (نووی رحمہ اللہ نے کہا: برسام عقل کا فتور ہے یا ورم سر کا یا ورم سینہ کا بحر الجواہر میں ہے برسام ورم ہے اس پردے کا جو جگر اور معدے کے بیچ میں ہے) پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح، اتنا زیادہ کیا کہ آپ انصار کے بیس نوجوانوں کے قریب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کے پیچھے دوڑایا اور ایک پہچاننے والے کو بھی ساتھ کیا۔ جو ان کے قدموں کے نشان پہچانے۔