وحدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا معاذ بن معاذ . ح وحدثنا احمد بن عثمان النوفلي ، حدثنا ازهر السمان ، قالا: حدثنا ابن عون ، حدثنا ابو رجاء مولى ابي قلابة، عن ابي قلابة ، قال: كنت جالسا خلف عمر بن عبد العزيز، فقال: للناس ما تقولون في القسامة؟، فقال عنبسة: قد حدثنا انس بن مالك كذا وكذا، فقلت: إياي حدث انس قدم على النبي صلى الله عليه وسلم قوم وساق الحديث بنحو حديث ايوب، وحجاج، قال ابو قلابة: فلما فرغت، قال عنبسة: سبحان الله، قال ابو قلابة، فقلت: اتتهمني يا عنبسة؟، قال: لا، هكذا حدثنا انس بن مالك " لن تزالوا بخير يا اهل الشام ما دام فيكم هذا او مثل هذا "،
ابوقلابہ سے روایت ہے کہ میں عمر بن عبدالعزیز کے پیچھے بیٹھا تھا۔ انہوں نے لوگوں سے کہا: قسامت میں کیا کہتے ہو؟ عنبسہ نے کہا: ہم سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ایسی ایسی۔ میں نے کہا: مجھ سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ آئے اخیر تک اور بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری۔ ابوقلابہ نے کہا: جب میں نے حدیث کو تمام کیا تو عنبسہ نے سبحان اللہ کہا، میں نے کہا: کیا میرے اوپر تہمت کرتے ہو (جھوٹ کی)۔ تو عنبسہ نے کہا: نہیں ہم سے بھی سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ایسی ہی حدیث بیان کی۔ اے ملک شام والو! تم ہمیشہ بھلائی سے رہو گے جب تک تم میں ایسا شخص رہے (یعنی ابوقلابہ کے حفظ اور یاد کی تعریف کی)۔