كِتَاب الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتماعی قسموں، لوٹ مار کرنے والوں (کی سزا)، قصاص اور دیت کے مسائل

حدثنا ابو جعفر محمد بن الصباح ، وابو بكر بن ابي شيبة واللفظ لابي بكر، قال: حدثنا ابن علية ، عن حجاج بن ابي عثمان ، حدثني ابو رجاء مولى ابي قلابة، عن ابي قلابة ، حدثني انس ، " ان نفرا من عكل ثمانية قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فبايعوه على الإسلام، فاستوخموا الارض وسقمت اجسامهم، فشكوا ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: الا تخرجون مع راعينا في إبله، فتصيبون من ابوالها والبانها، فقالوا: بلى، فخرجوا فشربوا من ابوالها والبانها، فصحوا فقتلوا الراعي وطردوا الإبل، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فبعث في آثارهم، فادركوا فجيء بهم، فامر بهم فقطعت ايديهم وارجلهم وسمر اعينهم، ثم نبذوا في الشمس حتى ماتوا "، وقال ابن الصباح في روايته " واطردوا النعم، وقال: وسمرت اعينهم "،

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آٹھ آدمی عسکل (ایک قبیلہ ہے) کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اسلام پر، پھر ان کو ہوا ناموافق ہو گئی اور ان کے بدن بیمار ہو گئے۔ انہوں نے شکوہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہمارے چرواہے کے ساتھ جاؤ، اونٹوں میں وہاں ان کا دودھ اور پیشاب پیو۔ انہوں نے کہا اچھا۔ پھر وہ نکلے اور اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پیا اور اچھے ہو گئے۔ انہوں نے چرواہوں کو قتل کیا اور اونٹ لے لیے۔ یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے دوڑ بھیجی، وہ گرفتار ہو کر لائے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا تو ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے گئے، آنکھیں سلائی سے پھوڑی گئیں، پھر دھوپ میں ڈال دئیے گئے یہاں تک کہ وہ مر گئے۔

صحيح مسلم # 4354
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp