حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا وكيع ، حدثنا الاعمش ، عن المعرور بن سويد ، قال: مررنا بابي ذر بالربذة وعليه برد وعلى غلامه مثله، فقلنا يا ابا ذر: لو جمعت بينهما كانت حلة، فقال: إنه كان بيني وبين رجل من إخواني كلام وكانت امه اعجمية، فعيرته بامه فشكاني إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فلقيت النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: " يا ابا ذر إنك امرؤ فيك جاهلية، قلت: يا رسول الله، من سب الرجال سبوا اباه وامه، قال: يا ابا ذر إنك امرؤ فيك جاهلية هم إخوانكم جعلهم الله تحت ايديكم، فاطعموهم مما تاكلون، والبسوهم مما تلبسون، ولا تكلفوهم ما يغلبهم فإن كلفتموهم فاعينوهم "،
معرور بن سوید سے روایت ہے ہم ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ربذہ میں (ربذہ ایک مقام کا نام ہے) وہ ایک چادر اوڑھے تھے ان کا غلام بھی ویسے ہی چادر پہنے تھا۔ ہم نے کہا: اے ابوذر! اگر تم یہ دونوں چادریں لے لیتے تو ایک جوڑا ہو جاتا۔ انہوں نے کہا: مجھ میں اور ایک میرے بھائی میں لڑائی ہوئی، اس کی ماں عجمی تھی، میں نے اس کو ماں کی گالی دی، اس نے میری شکایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تجھ میں جاہلیت ہے۔“ (یعنی جاہلیت کے زمانے کا اثر باقی ہے، جس زمانے میں لوگ اپنے ماں، باپ سے فخر کرتے تھے اور دوسروں کے ماں باپ کو حقیر سمجھتے تھے) میں نے کہا: یا رسول اللہ! جو کوئی لوگوں کو گالی دے گا لوگ اس کے ماں باپ کو گالی دیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تجھ میں جاہلیت ہے (یعنی اگر اس نے تجھ کو برا کہا تھا تو اس کا بدلہ یہ تھا کہ تو بھی اس کو برا کہے نہ کہ اس کے ماں باپ کو) وہ تمہارے بھائی ہیں (اس سے معلوم ہوا کہ وہ غلام تھا مگر ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس کو بھائی کہا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھائی کہا) اللہ تعالیٰ نے تمہارے نیچے ان کو کر دیا (یعنی تمہارے ملک میں) تو کھلاؤ ان کو جو تم کھاتے ہو اور پہناؤ ان کو جو تم پہنتے ہو اور مت تکلیف دو ان کو ان کی سکت سے زیادہ اگر ایسا کام لو تو تم بھی اس میں شریک ہو جاؤ۔“