كِتَاب الْقَسَامَةِ قسموں کا بیان

وحدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد ، حدثني ابي ، حدثنا شعبة ، قال: قال لي محمد بن المنكدر: ما اسمك؟، قلت: شعبة، فقال محمد ، حدثني ابو شعبة العراقي ، عن سويد بن مقرن : " ان جارية له لطمها إنسان، فقال له: سويد اما علمت ان الصورة محرمة، فقال: لقد رايتني وإني لسابع إخوة لي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وما لنا خادم غير واحد، فعمد احدنا فلطمه فامرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نعتقه "،

‏‏‏‏ سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ ان کی لونڈی کو ایک آدمی نے طمانچہ مارا۔ سوید رضی اللہ عنہ نے کہا: تجھ کو معلوم نہیں منہ پر طمانچہ مارنا حرام ہے اور مجھ کو دیکھ میں ساتواں بھائی تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں اور ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا اس کو میرے بھائیوں میں سے ایک نے طمانچہ مارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اس کے آزاد کرنے کا۔

صحيح مسلم # 4304
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp