كِتَاب الْقَسَامَةِ قسموں کا بیان

وحدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار واللفظ لابن المثنى، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن فراس ، قال: سمعت ذكوان يحدث، عن زاذان : " ان ابن عمر دعا بغلام له، فراى بظهره اثرا، فقال له: اوجعتك؟ قال: لا، قال: فانت عتيق، قال: ثم اخذ شيئا من الارض، فقال: ما لي فيه من الاجر ما يزن هذا إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " من ضرب غلاما له حدا لم ياته او لطمه فإن كفارته ان يعتقه "،

‏‏‏‏ زاذان سے روایت ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک غلام کو بلایا اور اس کی پیٹھ پر نشان دیکھا تو کہا: میں نے تجھے تکلیف دی۔ اس نے کہا: نہیں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آزاد ہے پھر زمین پر سے کوئی چیز اٹھائی اور کہا: اس کے آزاد کرنے میں اتنا بھی ثواب نہیں ملا میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جو شخص غلام کو بن کیے حد لگائے (یعنی ناحق مارے) یا طمانچہ لگائے تو اس کا کفارہ یعنی اتار یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے۔

صحيح مسلم # 4299
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp