وحدثني زهير بن حرب ، حدثنا شبابة ، حدثني ورقاء ، عن ابي الزناد ، عن الاعرج ، عن ابي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " قال سليمان بن داود: لاطوفن الليلة على تسعين امراة كلها تاتي بفارس يقاتل في سبيل الله، فقال له صاحبه: قل إن شاء الله، فلم يقل إن شاء الله، فطاف عليهن جميعا فلم تحمل منهن إلا امراة واحدة، فجاءت بشق رجل، وايم الذي نفس محمد بيده لو قال: إن شاء الله لجاهدوا في سبيل الله فرسانا اجمعون "،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے کہا: میں اس رات کو نوے (۹۰) عورتوں کے پاس ہو آؤں گا ہر ایک سے ایک لڑکا ہو گا جو سوار ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا، ان کا ساتھی (کوئی آدمی یا فرشتہ) بولا کہو ان شاء اللہ انہوں نے کہا (بھول گئے) پھر وہ سب عورتوں کے پاس گئے لیکن کوئی حاملہ نہ ہوئی، ایک ہوئی وہ بھی ایک ٹکڑا آدمی کا جنی۔ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو سب کی سب عورتیں لڑکے جنتیں اور سب لڑکے جہاد کرتے سوار ہو کر اللہ کی راہ میں سب مل کر۔“