وحدثنا محمد بن عباد ، وابن ابي عمر واللفظ لابن ابي عمر، قالا: حدثنا سفيان ، عن هشام بن حجير ، عن طاوس ، عن ابي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " قال سليمان بن داود نبي الله: لاطوفن الليلة على سبعين امراة كلهن تاتي بغلام يقاتل في سبيل الله، فقال له: صاحبه او الملك قل إن شاء الله، فلم يقل ونسي، فلم تات واحدة من نسائه إلا واحدة جاءت بشق غلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ولو قال إن شاء الله لم يحنث وكان دركا له في حاجته "،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان بن داؤد علیہ السلام پیغمبر نے کہا: میں اس رات کو ستر عورتوں کے پاس ہو آؤں گا (ایک روایت میں نوے ہیں ایک میں نناوے اور ایک میں سو) ہر ایک ان میں سے ایک لڑکا جنے گی جو جہاد کرے گا اللہ تعالیٰ کی راہ میں، ان کے ساتھی یا فرشتے نے کہا: کہو ان شاء اللہ لیکن انہوں نے نہیں کہا وہ بھول گئے پھر کوئی عورت نہیں جنی البتہ ایک جنی وہ بھی آدھا بچہ۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو ان کی بات نہ جاتی اور ان کا مطلب پورا ہو جاتا۔“