كِتَاب الْقَسَامَةِ قسموں کا بیان

حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا جرير ، عن عبد العزيز يعني ابن رفيع ، عن تميم بن طرفة ، قال: " جاء سائل إلى عدي بن حاتم فساله نفقة في ثمن خادم او في بعض ثمن خادم، فقال: ليس عندي ما اعطيك إلا درعي ومغفري، فاكتب إلى اهلي ان يعطوكها، قال: فلم يرض فغضب عدي ، فقال: اما والله لا اعطيك شيئا ثم إن الرجل رضي، فقال: اما والله لولا اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من حلف على يمين ثم راى اتقى لله منها، فليات التقوى ما حنثت يميني ".

‏‏‏‏ تمیم بن طرفہ سے روایت ہے، ایک فقیر مانگنے کو آیا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس اور سوال کیا ان سے غلام کی قیمت کا یا کوئی حصہ اس کی قیمت کا عدی رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں ہے مگر میری زرہ اور خود، تو میں اپنے گھر والوں کو لکھتا ہوں تجھے دینے کے لیے، وہ راضی نہ ہوا۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا اور کہا: اللہ کی قسم میں تجھے کچھ نہیں دوں گا۔ پھر وہ شخص راضی ہو گیا۔ عدی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جو شخص قسم کھائے پھر دوسری بات اس سے بڑھ کر پرہیزگاری کی سمجھے تو وہ بات کرے۔ تو میں اپنی قسم نہ توڑتا (اور تجھے کچھ نہ دیتا)۔

صحيح مسلم # 4275
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp