كِتَاب الْقَسَامَةِ قسموں کا بیان

وحدثنا إسحاق بن إبراهيم ، اخبرنا جرير ، عن سليمان التيمي ، عن ضريب بن نقير القيسي ، عن زهدم ، عن ابي موسى الاشعري ، قال: اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم نستحمله، فقال: " ما عندي ما احملكم والله ما احملكم، ثم بعث إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بثلاثة ذود بقع الذرى، فقلنا إنا اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم نستحمله فحلف ان لا يحملنا، فاتيناه فاخبرناه، فقال: إني لا احلف على يمين ارى غيرها خيرا منها، إلا اتيت الذي هو خير "،

‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے سواری مانگنے کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس سواری نہیں ہے اور میں تم کو قسم اللہ کی سواری نہیں دوں گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے پاس تین اونٹ بھیجے جن کی کوہان چتکبری تھی ہم نے کہا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تھے سواری مانگنے کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ ہم کو سواری نہ دیں گے پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کسی بات پر قسم نہیں کھاتا پھر دوسری بات بہتر پاتا ہوں تو وہ بہتر کام کرتا ہوں۔ (اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں)۔

صحيح مسلم # 4269
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp