كِتَاب الْقَسَامَةِ قسموں کا بیان

حدثنا خلف بن هشام ، وقتيبة بن سعيد واللفظ لخلف، ويحيى بن حبيب الحارثي ، قالوا: حدثنا حماد بن زيد ، عن غيلان بن جرير ، عن ابي بردة ، عن ابي موسى الاشعري ، قال: اتيت النبي صلى الله عليه وسلم في رهط من الاشعريين نستحمله، فقال: " والله لا احملكم وما عندي ما احملكم عليه "، قال: فلبثنا ما شاء الله، ثم اتي بإبل فامر لنا بثلاث ذود غر الذرى، فلما انطلقنا قلنا، او قال بعضنا لبعض لا يبارك الله لنا اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم نستحمله، فحلف ان لا يحملنا، ثم حملنا فاتوه فاخبروه، فقال: ما انا حملتكم ولكن الله حملكم، وإني والله إن شاء الله لا احلف على يمين، ثم ارى خيرا منها إلا كفرت عن يميني واتيت الذي هو خير ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور چند اشعریوں کے ساتھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مانگنے کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم کو سواری نہیں دوں گا۔ اور میرے پاس کوئی سواری نہیں جو تم کو دوں۔ پھر ٹھہرے رہے ہم جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ بعد اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹ آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہم کو سفید کوہان کے تین اونٹ دینے کا۔ جب ہم چلے تو ہم نے کہا یا بعض نے ہم سے کہا: اللہ تعالیٰ برکت نہ دے ہم کو۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سواری مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی ہم کو سواری نہ ملے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو سواری دی۔ لوگوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو سوار نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے سوار کیا۔ اور میں تو اگر اللہ چاہے کسی بات کی قسم نہ کھاؤں گا۔ پھر اس سے بہتر دوسرا کام دیکھوں گا۔ مگر اپنی قسم کا کفارہ دوں گا اور وہ کام کروں گا جو بہتر ہے۔

صحيح مسلم # 4263
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp