كِتَاب النَّذْرِ نذر کے احکام

وحدثنا يحيى بن ايوب ، وقتيبة ، وابن حجر ، قالوا: حدثنا إسماعيل وهو ابن جعفر ، عن عمرو وهو ابن ابي عمرو ، عن عبد الرحمن الاعرج ، عن ابي هريرة ، " ان النبي صلى الله عليه وسلم ادرك شيخا يمشي بين ابنيه يتوكا عليهما، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما شان هذا؟، قال ابناه: يا رسول الله، كان عليه نذر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اركب ايها الشيخ، فإن الله غني عنك وعن نذرك "، واللفظ لقتيبة، وابن حجر،

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے کو دیکھا جو اپنے دونوں بیٹوں کے بیچ میں ٹیکا دے کر چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو کیا ہوا ہے۔ اس کے بیٹوں نے کہا: یا رسول اللہ! اس پر نذر ہے (پیدل حج پر جانے کی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوار ہو جا اے بوڑھے! کیونکہ اللہ تعالیٰ محتاج نہیں ہے تیرا اور تیری نذر کا۔

صحيح مسلم # 4248
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp