كِتَاب النَّذْرِ نذر کے احکام

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا غندر ، عن شعبة . ح وحدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار واللفظ لابن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن منصور ، عن عبد الله بن مرة ، عن ابن عمر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نهى عن النذر، وقال: " إنه لا ياتي بخير وإنما يستخرج به من البخيل "،

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا نذر سے۔ اور فرمایا: اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا (یعنی کوئی آنے والی بلا نہیں رکتی اور تقدیر نہیں پھرتی) بلکہ بخیل کے دل سے مال نذر کے سبب سے نکلتا ہے۔ (یعنی بخیل یوں تو خیرات نہیں کرتا۔ جب آفت آتی ہے تو نذر ہی کے بہانے روپیہ دیتا ہے مسکینوں کو فائدہ ہوتا ہے)۔

صحيح مسلم # 4239
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp