كِتَاب الْوَصِيَّةِ وصیت کے احکام و مسائل

وحدثنا وحدثنا يحيى بن يحيى ، وابو بكر بن ابي شيبة واللفظ ليحيى، قال: اخبرنا إسماعيل ابن علية ، عن ابن عون ، عن إبراهيم ، عن الاسود بن يزيد ، قال: " ذكروا عند عائشة ان عليا كان وصيا، فقالت: متى اوصى إليه فقد كنت مسندته إلى صدري، او قالت حجري؟، فدعا بالطست، فلقد انخنث في حجري وما شعرت انه مات، فمتى اوصى إليه؟ ".

‏‏‏‏ اسود بن یزید سے روایت ہے، لوگوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ذکر کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وصی تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کب وصی بنایا؟ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی تھی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں تھے اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طشت منگایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے میری گود میں اور مجھے خبر نہیں ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کیا پھر علی رضی اللہ عنہ کو کیونکر وصیت کی۔

صحيح مسلم # 4231
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp