كِتَاب الْوَصِيَّةِ وصیت کے احکام و مسائل

حدثنا حدثنا يحيي بن يحيي التميمي ، اخبرنا عبد الرحمن بن مهدي ، عن مالك بن مغول ، عن طلحة بن مصرف ، قال: " سالت عبد الله بن ابي اوفى ، هل اوصى رسول الله صلى الله عليه وسلم؟، فقال: لا، قلت: فلم كتب على المسلمين الوصية او فلم امروا بالوصية؟، قال: اوصى بكتاب الله عز وجل "،

‏‏‏‏ طلحہ بن مصرف سے روایت ہے، میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی؟ (مال وغیرہ کے لیے) انہوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: پھر مسلمانوں پر کیوں فرض ہوئی یا ان کو کیوں وصیت کا حکم ہوا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل کرنے کی۔

صحيح مسلم # 4227
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp