كِتَاب الْوَصِيَّةِ وصیت کے احکام و مسائل

وحدثني القاسم بن زكرياء ، حدثنا حسين بن علي ، عن زائدة ، عن عبد الملك بن عمير ، عن مصعب بن سعد ، عن ابيه ، قال: " عادني النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت: اوصي بمالي كله، قال: لا، قلت: فالنصف، قال: لا، فقلت: ابالثلث، فقال: نعم والثلث كثير ".

‏‏‏‏ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میری عیادت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ میں نے عرض کیا: کیا میں وصیت کروں اپنے سارے مال کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ پھر میں نے عرض کیا: کیا وصیت کروں آدھے مال کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: کیا تہائی کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور تہائی بھی بہت ہے۔

صحيح مسلم # 4214
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp