كِتَاب الْوَصِيَّةِ وصیت کے احکام و مسائل

حدثنا يحيى بن يحيى التميمي ، اخبرنا إبراهيم بن سعد ، عن ابن شهاب ، عن عامر بن سعد ، عن ابيه ، قال: " عادني رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع، من وجع اشفيت منه على الموت، فقلت: يا رسول الله، بلغني ما ترى من الوجع وانا ذو مال ولا يرثني إلا ابنة لي واحدة، افاتصدق بثلثي مالي، قال: لا، قال: قلت: افاتصدق بشطره، قال: لا الثلث والثلث كثير، إنك ان تذر ورثتك اغنياء خير من ان تذرهم عالة يتكففون الناس، ولست تنفق نفقة تبتغي بها وجه الله، إلا اجرت بها حتى اللقمة تجعلها في في امراتك، قال: قلت: يا رسول الله، اخلف بعد اصحابي، قال: إنك لن تخلف، فتعمل عملا تبتغي به وجه الله، إلا ازددت به درجة ورفعة، ولعلك تخلف حتى ينفع بك اقوام ويضر بك آخرون، اللهم امض لاصحابي هجرتهم ولا تردهم على اعقابهم " لكن البائس سعد بن خولة، قال: رثى له رسول الله صلى الله عليه وسلم من ان توفي بمكة،

‏‏‏‏ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت کی حجتہ الوداع میں اور میں ایسے درد میں مبتلا تھا کہ موت کے قریب ہو گیا تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے جیسا درد ہے آپ جانتے ہیں اور میں مالدار آدمی ہوں اور میرا وارث سوا ایک بیٹی کے اور کوئی نہیں ہے , کیا میں دو تہائی مال خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: آدھا مال خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ایک تہائی خیرات کر اور ایک تہائی بھی بہت ہے اگر تو اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ جائے تو بہتر ہے اس سے کہ تو ان کو محتاج چھوڑ جائے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے پھریں اور تو جو خرچ کرے گا اللہ کی رضامندی کے لیے اس کا ثواب تجھے ملے گا یہاں تک کہ اس لقمے کا بھی جو تو اپنی جورو کے منہ میں ڈالے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا میں پیچھے رہ جاؤں گا اپنے اصحاب کے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو پیچھے رہے گا (یعنی زندہ رہے گا) پھر ایسا عمل کرے گا جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشی منظور ہو تو تیرا درجہ بڑھے گا اور بلند ہو گا اور شاید تو زندہ رہے یہاں تک کہ فائدہ ہو تجھ سے بعض لوگوں کو اور نقصان ہو بعض لوگوں کو یااللہ! میرے اصحاب کی ہجرت پوری کر دے اور مت پھیر ان کو ان کی ایڑیوں پر لیکن تباہ بیچارہ سعد بن خولہ (رضی اللہ عنہ) ہے۔ اس کے لئے رنج کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وجہ سے کہ وہ فوت ہوا مکہ میں۔

صحيح مسلم # 4209
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp