كِتَاب الْهِبَاتِ عطیہ کی گئی چیزوں کا بیان

وحدثني محمد بن رافع ، وإسحاق بن منصور واللفظ لابن رافع، قالا: حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا ابن جريج ، اخبرني ابو الزبير ، عن جابر ، قال: " اعمرت امراة بالمدينة حائطا لها ابنا لها ثم توفي وتوفيت بعده، وتركت ولدا وله إخوة بنون للمعمرة، فقال: ولد المعمرة رجع الحائط إلينا، وقال بنو المعمر: بل كان لابينا حياته وموته، فاختصموا إلى طارق مولى عثمان، فدعا جابرا فشهد على رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعمرى لصاحبها، فقضى بذلك طارق ثم كتب إلى عبد الملك، فاخبره ذلك واخبره بشهادة جابر، فقال عبد الملك: صدق جابر، فامضى ذلك طارق، فإن ذلك الحائط لبني المعمر حتى اليوم ".

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک عورت نے مدینہ میں اپنے بیٹے کو ایک باغ دیا عمرے کے طور پر وہ بیٹا مر گیا۔ اس کے بعد عورت مری اور اولاد چھوڑی اور بھائی تو عورت کی اولاد نے کہا: باغ پھر ہماری طرف آ گیا اور لڑکے کے بیٹے نے کہا: باغ ہمارے باپ کا تھا اس کی زندگی اور موت میں۔ پھر دونوں نے جھگڑا کیا طارق کے پاس جو مولیٰ تھے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے گواہی دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے پر کہ عمریٰ اسی کا ہے جس کو دیا جائے پھر یہی حکم کیا طارق نے۔ بعد اس کے عبدالملک بن مروان کو لکھا اور یہ بھی لکھا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ایسی گواہی دی ہے۔ عبدالملک نے کہا: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سچ کہتے ہیں۔ پھر طارق نے وہ حکم جاری کر دیا اور وہ باغ آج تک اس کے لڑکے کی اولاد کے پاس ہے۔

صحيح مسلم # 4198
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp