حدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا عبد الوهاب ، وعبد الاعلى . ح وحدثنا إسحاق بن إبراهيم ، ويعقوب الدورقي جميعا، عن ابن علية واللفظ ليعقوب، قال: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، عن داود بن ابي هند ، عن الشعبي ، عن النعمان بن بشير ، قال: انطلق بي ابي يحملني إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " يا رسول الله، اشهد اني قد نحلت النعمان كذا وكذا من مالي، فقال: اكل بنيك قد نحلت مثل ما نحلت النعمان؟ قال: لا، قال: فاشهد على هذا غيري، ثم قال: ايسرك ان يكونوا إليك في البر سواء؟ قال: بلى، قال: فلا إذا ".
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میرے باپ مجھ کو اٹھا کر لے گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہا کہ یا رسول اللہ! آپ گواہ رہیے کہ میں نے نعمان کو فلاں فلاں چیز اپنے مال میں سے ہبہ کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا سب بیٹوں کو تو نے ایسا ہی دیا ہے۔ جیسے نعمان کو دیا ہے۔“ میرے باپ نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر مجھ کو گواہ نہ کر اور کسی کو کر لے۔“ بعد اس کے فرمایا: ”کیا تو خوش ہے اس سے کہ سب برابر ہوں تیرے ساتھ نیکی کرنے میں۔“ میرا باپ بولا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر ایسا مت کر۔“ (یعنی ایک کو دے، ایک کو نہ دے)۔