كِتَاب الْهِبَاتِ عطیہ کی گئی چیزوں کا بیان

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا علي بن مسهر ، عن ابي حيان ، عن الشعبي ، عن النعمان بن بشير . ح وحدثنا محمد بن عبد الله بن نمير واللفظ له، حدثنا محمد بن بشر ، حدثنا ابو حيان التيمي ، عن الشعبي ، حدثني النعمان بن بشير : " ان امه بنت رواحة سالت اباه بعض الموهبة من ماله لابنها، فالتوى بها سنة ثم بدا له، فقالت: لا ارضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم على ما وهبت لابني، فاخذ ابي بيدي وانا يومئذ غلام، فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، إن ام هذا بنت رواحة اعجبها ان اشهدك على الذي وهبت لابنها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا بشير الك ولد سوى هذا؟ قال: نعم، فقال: اكلهم وهبت له مثل هذا؟ قال: لا، قال: فلا تشهدني إذا فإني لا اشهد على جور ".

‏‏‏‏ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان کی ماں بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے ان کے باپ سے سوال کیا کہ اپنے مال میں سے کچھ ہبہ کر دیں، ان کے بیٹے کو (یعنی نعمان کو) لیکں بشیر نے ایک سال ٹالا۔ پھر وہ مستعد ہوئے ہبہ کرنے کو، ان کی ماں بولی: میں راضی نہیں ہوں گی جب تک تم گواہ نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ہبہ پر، میرے باپ نے میرا ہاتھ پکڑا۔ اور میں ان دونوں لڑکا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کی ماں بنت رواحہ نے جو یہ چاہا کہ آپ گواہ ہو جائیں اس ہبہ پر جو میں نے اس لڑکے کو کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بشیر! کیا سوا اس کے اور بھی تیرے لڑکے ہیں؟ بشیر رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو بھی تو نے ایسا ہی ہبہ کیا ہے؟ بشیر رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے گواہ مت کر کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں ہوتا۔

صحيح مسلم # 4182
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp