كِتَاب الْمُسَاقَاةِ سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، ومحمد بن عبد الله بن نمير ، وإسحاق بن إبراهيم واللفظ لابن نمير، قال إسحاق: اخبرنا، وقال الآخران، حدثنا عبد الله بن إدريس ، حدثنا ابن جريج ، عن ابي الزبير ، عن جابر ، قال: " قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالشفعة في كل شركة لم تقسم ربعة او حائط لا يحل له ان يبيع حتى يؤذن شريكه، فإن شاء اخذ وإن شاء ترك، فإذا باع ولم يؤذنه فهو احق به ".

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، حکم کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کا ہر ایک مشترک مال میں جو بٹا نہ ہو، زمین ہو یا باغ۔ ایک شریک کو درست نہیں کہ دوسرے شریک کو اطلاع دیئے بغیر اپنا حصہ بیچ ڈالے، پھر دوسرے شریک کو اختیار ہے چاہے لے چاہے نہ لے، اب اگر بغیر اطلاع کے بیچ ڈالے تو وہ شریک زیادہ حقدار ہے۔ (غیر شخص سے اسی دام کو خود لے سکتا ہے)۔

صحيح مسلم # 4128
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp