حدثنا محمد بن بشار بن عثمان العبدي ، حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن سلمة بن كهيل ، عن ابي سلمة ، عن ابي هريرة ، قال: " كان لرجل على رسول الله صلى الله عليه وسلم حق فاغلظ له، فهم به اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن لصاحب الحق مقالا، فقال لهم: اشتروا له سنا، فاعطوه إياه، فقالوا: إنا لا نجد إلا سنا هو خير من سنه، قال: فاشتروه فاعطوه إياه، فإن من خيركم او خيركم احسنكم قضاء ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض آتا تھا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت کہا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے قصد کیا اس کو سزا دینے کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مقرر جس کا حق ہے اس کو کہنا زیبا ہے۔“ (یہ اخلاق دلیل ہیں نبوت کے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”ایک اونٹ خرید کر اس کو دو۔“ انہوں نے کہا: ہم کو تو اس کے اونٹ سے بہتر ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی خرید کر اس کو دو۔ کیونکہ بہتر تم میں وہ لوگ ہیں جو قرض اچھی طرح ادا کریں۔“