حدثنا ابو الطاهر احمد بن عمرو بن سرح ، اخبرنا ابن وهب ، عن مالك بن انس ، عن زيد بن اسلم ، عن عطاء بن يسار ، عن ابي رافع " ان رسول الله صلى الله عليه وسلم استسلف من رجل بكرا، فقدمت عليه إبل من إبل الصدقة، فامر ابا رافع ان يقضي الرجل بكره فرجع إليه ابو رافع، فقال: لم اجد فيها إلا خيارا رباعيا، فقال: اعطه إياه إن خيار الناس احسنهم قضاء "،
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے اونٹ کا بچھڑا قرض لیا (یعنی چھ برس سے کم کا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقے کے اونٹ آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کو حکم کیا اس کا اونٹ ادا کرنے کا۔ ابورافع رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے لوٹ کر، اور کہا کہ صدقہ کے اونٹوں میں (ویسا کوئی بچھڑا) نہیں، اس سے بہتر پورے سات برس کے اونٹ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی اس کو دے دے اچھے وہ لوگ ہیں جو قرض کو اچھی طرح سے ادا کریں۔“