كِتَاب الْمُسَاقَاةِ سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا

حدثنا عثمان بن ابي شيبة ، وإسحاق بن إبراهيم واللفظ لعثمان، قال إسحاق، اخبرنا، وقال عثمان، حدثنا جرير ، عن مغيرة ، عن الشعبي ، عن جابر بن عبد الله ، قال: " غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتلاحق بي وتحتي ناضح لي قد اعيا ولا يكاد يسير، قال: فقال لي: ما لبعيرك؟ قال: قلت: عليل، قال: فتخلف رسول الله صلى الله عليه وسلم، فزجره ودعا له، فما زال بين يدي الإبل قدامها يسير، قال: فقال لي: كيف ترى بعيرك؟، قال: قلت: بخير قد اصابته بركتك، قال: افتبيعنيه؟ فاستحييت ولم يكن لنا ناضح غيره، قال: فقلت: نعم، فبعته إياه على ان لي فقار ظهره حتى ابلغ المدينة، قال: فقلت له: يا رسول الله، إني عروس، فاستاذنته فاذن لي، فتقدمت الناس إلى المدينة حتى انتهيت، فلقيني خالي فسالني عن البعير، فاخبرته بما صنعت فيه فلامني فيه قال: وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال لي حين استاذنته: ما تزوجت ابكرا ام ثيبا؟، فقلت له: تزوجت ثيبا، قال: افلا تزوجت بكرا تلاعبك وتلاعبها؟، فقلت له: يا رسول الله، توفي والدي او استشهد ولي اخوات صغار، فكرهت ان اتزوج إليهن مثلهن، فلا تؤدبهن ولا تقوم عليهن، فتزوجت ثيبا لتقوم عليهن وتؤدبهن، قال: فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة غدوت إليه بالبعير، فاعطاني ثمنه ورده علي "،

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، میں نے جہاد کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ملے (راہ میں) اور میری سواری میں ایک اونٹ تھا پانی کا، وہ تھک گیا تھا اور بالکل چل نہ سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تیرے اونٹ کو کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کیا: وہ بیمار ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹے اور اونٹ کو ڈانٹا اور اس کے لیے دعا کی پھر وہ ہمیشہ سب اونٹوں کے آگے ہی چلتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تیرا اونٹ کیسا ہے؟ میں نے کہا: اچھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ہاتھ بیچتا ہے۔ مجھے شرم آئی اور ہمارے پاس اور کوئی اونٹ پانی لانے کے لیے نہ تھا۔ آخر میں نے کہا: بیچتا ہوں۔ پھر میں نے اس اونٹ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچ ڈالا اس شرط سے کہ میں اس پر سواری کروں گا مدینے تک۔ پھر میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! میں نوشہ ہوں (یعنی ابھی میرا نکاح ہوا ہے) مجھے اجازت دیجئے (لوگوں سے پہلے مدینہ جانے کی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی میں لوگوں سے آگے بڑھ کر مدینہ آ پہنچا۔ وہاں میرے ماموں ملے۔ اونٹ کا حال پوچھا میں نے سب حال بیان کیا۔ انہوں نے مجھ کو ملامت کی (کہ ایک ہی اونٹ تھا تیرے پاس اور گھر والے بہت ہیں اس کو بھی تو نے بیچ ڈالا۔ اور اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ اللہ کریم کو جابر رضی اللہ عنہ کا فائدہ منظور ہے) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے کنواری سے شادی کی یا نکاحی سے؟ میں نے کہا: نکاحی سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے کیوں نہ کی؟ وہ تجھ سے کھیلتی اور تو اس سے کھیلتا۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میرا باپ مر گیا یا شہید ہو گیا میری کئی بہنیں چھوڑ کر چھوٹی چھوٹی تو مجھے برا معلوم ہوا کہ میں شادی کر کے اور ایک لڑکی لاؤں ان کے برابر جو نہ ان کو ادب سکھائے اور نہ ان کو دبائے۔ اس لیے میں نے ایک نکاحی سے شادی کی تاکہ ان کو دابے اور تمیز سکھائے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے، میں اونٹ صبح ہی لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت مجھ کو دی اور اونٹ بھی پھیر دیا۔

صحيح مسلم # 4100
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp